واشنگٹن،19نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نگراں انتظامیہ کے ایک ذمے دار نے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے قومی سلامتی اور قانون کے نفاذ سے متعلق اپنی ٹیموں کی قیادت کے لیے تین سینئر قدامت پسندوں کا انتخاب کیا ہے۔ ان میں وزیر انصاف کے منصب کے لیے سینیٹر جیفرسن سیشنز اور امریکی انٹیلی جنس کی مرکزی ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے کے لیے ایوان نمائندگان کے رکن مائیک بومبیو شامل ہیں۔ذمے دار نے مزید بتایا کہ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل ولن کو منتخب صدر کے لیے قومی سلامتی کا مشیر چنا گیا ہے۔ اس منصب پر تقرر کے واسطے امریکی سینیٹ سے تائید حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔نگراں ٹیم کے رکن کے مطابق تینوں شخصیات نے ٹرمپ کی پیش کش قبول کر لی ہے اور اس کا سرکاری طور پر اعلان کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔
مرکزی انٹیلی جنس کے لیے ایران کے دشمن کا انتخاب:امریکی سی آئی اے کی قیادت کے لیے 52سالہ بومبیو کا انتخاب ایک حیران کن امر ہے۔ وہ ایوان نمائندگان میں انٹیلی جنس ، توانائی اور تجارت کی کمیٹیوں کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کمیٹی کا بھی حصہ رہے جس نے 2012میں لیبیا کے شہر بنغازی میں امریکی سفارتی مشن کے صدر دفتر پر حملے کی تحقیقات کی تھیں۔بومبیو نے جمعرات کے روز اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ میں امید کرتا ہوں کہ دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی سب سے بڑی ریاست کے ساتھ اس تباہ کن معاہدے کو منسوخ کر دیا جائے گا ۔بومبیو ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہیں اور انہوں نے آرمرڈ کارپس آفیسر کے طور پر خدمات سر انجام دیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہاروڈ یونی ورسٹی سے انسانی حقوق کے شعبے میں بھی گریجویشن مکمل کیا۔ بعد ازاں بومبیو نے ایک کمپنی قائم کی جو تجارتی اور فوجی طیاروں کے حصے تیار کرتی ہے۔
قومی سلامتی کے مشیر کے عہدے کو سینیٹ کی تائید کی ضرورت نہیں:جہاں تک مائیکل ولن کا تعلق ہے تو وہ امریکی فوج کے سابق جنرل اور ٹرمپ کے قریب ترین مشیروں میں سے ایک ہیں۔ انہیں 2014میں دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی سے برطرف کیا گیا۔ اس اقدام کے کے ساتھ شدت پسندوں کے خلاف جنگ کے حوالے سے حیران کن حقائق منسوب کیے گئے۔ ولن کے ساتھ کام کرنے والے ذمے داران کا کہنا ہے کہ ولن کی برطرفی کے پیچھے ان کی انتظامی صلاحیتوں کے فقدان اور قیادت کے طریقہ کار کا ہاتھ تھا۔
وزیر انصاف کی مکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کی تائید:وزیر انصاف کے منصب پر جیفرسن سیشنز کا انتخاب کر کے ٹرمپ نے اپنے ایسے ہمنوا کو نواز دیا ہے جن کے امیگریشن سے متعلق سخت گیر موقف اور بیانات بعض مرتبہ منتخب صدر ٹرمپ کے بیانات سے ملتے جلتے ہیں۔سیشنز سرکاری دستاویزات نہ رکھنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو شہریت دینے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ میسکیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے کے ٹرمپ کے اعلان پر سیشنز نے بھرپور گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا۔ریپبلکن پارٹی کی قومی کمیٹی کے ترجمان شون اسپائسر نے جو خود ٹرمپ کے لیے صدارتی منتقلی کی کارروائی کی نگرانی میں شریک ہیں.. امیدواروں کے چناؤ کے حوالے سے مذکورہ رپورٹوں کی تصدیق نہیں کی۔